اس ملک کے رہبر ڈاکو ہیں، سالار بدلتے رہتے ہیں
جب لوگ سمجھ لیں چہرے پھر کردار بدلتے رہتے ہیں
دو چار دنوں کی بات نہیں یہ کھیل ہے جاری برسوں سے
مکار ہمارے شہروں کے، 👳 دستار بدلتے رہتےہیں
یہ لُوٹ کے دولت لوگوں کی، پھر دیس نکالا لیتے ہیں
یہ جان چھڑانے کی خاطر گھر بار بدلتے رہتے ہیں
پھر بھوک تماشہ ہو گا اب، میں دیکھ رہا ہوں آنکھوں سے
دن رات حکومت کے دیکھو افکار بدلتے رہتے ہیں
جس شاخ پہ برگ و بار نہ ہو ہر وقت خزاں کا پہرہ ہو
تو جان بچانے کو پنچھی اشجار بدلتے رہتے ہیں
الیاس عاجز
No comments:
Post a Comment