پھر وہی قصۂ الفت نہ سناؤ، جاؤ
سبز ہو جائے گی پھر کونپلِ گھاؤ، جاؤ
آگہی کرب میں تبدیل بھی ہو سکتی ہے
بے خبر آنکھ کو دنیا میں گھماؤ، جاؤ
ہاتھ زخمی ہیں مِرے کرچیاں چن چن کے عبث
دل کی دھرتی میں تو بنیادِ وفا رکھ دی ہے
اب گھروندہ کسی ساحل پہ بناؤ، جاؤ
آپ سے شکوۂ بے نام سنبھالا نہ گیا
اور سہہ لوں میں کڑے طنز کا تاؤ، جاؤ
عشق کا روگ دواؤں سے کہیں جاتا ہے
کوئی ٹونا کوئی تعویذ کراؤ، جاؤ
پُر اثر آہ بنانا کوئی آساں تو نہیں
پہلے سینے میں کوئی درد سماؤ، جاؤ
صائمہ آفتاب
No comments:
Post a Comment