Saturday, 22 August 2020

آپ کیوں چھیڑتے ہیں دیپک راگ

آپ کیوں چھیڑتے ہیں دیپک راگ
شہر میں لگ رہی ہے خود ہی آگ
اٹھ رہا ہے حریمِ دل سے دھواں
لٹ رہا ہے سہاگنوں کا سہاگ
شعلہ ساماں ہوئی ہے تاریکی
کیسے جاگے ہیں روشنی کے بھاگ
جانے کس کس ہوس کو دیں گے جنم
بوتلوں کے اڑا چکے جو کاگ
لاگ میں تھی کبھی لگاؤ کی شان
اب لبوں میں لگاؤ کی ہے لاگ
کفِ دریا کا دیکھیۓ انجام
بے سبب لائیے نہ منہ میں جھاگ
جاتے لمحے دہائی دیتے ہیں
نئے اطوار کے طریق پہ جاگ
مسکراتا ہے کھیت سرسوں کا
توڑتی ہیں جو گاؤں والیاں ساگ
سرکنڈوں میں ہے کینچلی اٹکی
کہیں لہرا کے چھپ گیا ہے ناگ
چاند پر جو کمند ڈالتے ہیں
مجھ سے کہتے ہیں زندگی بھی تیاگ

قیوم نظر

No comments:

Post a Comment