Saturday, 22 August 2020

وہ کہاں مجھ پہ جفا کرتا تھا

وہ کہاں مجھ پہ جفا کرتا تھا
جو مقدر تھا ملا کرتا تھا
آج شرماتا ہے سورج اس سے
وہ جو تاروں سے حیا کرتا تھا
سوچتا ہوں تو ہنسی آتی ہے
سامنے اس کے میں کیا کرتا تھا
میں پڑا رہتا تھا افتادگی سے
جادۂ شوق چلا کرتا تھا
گردِ رہ بن کے جو یوں بیٹھا ہوں
صورتِ شعلہ اٹھا کرتا تھا
دل سے اک ہوک بھی اب اٹھتی نہیں
دل کہ، ہنگامہ بپا کرتا تھا
منزلوں تک ہے کڑی دھوپ کھڑی
میں بھی ساۓ میں چلا کرتا تھا
اب وہ مرنے کی اڑاتے ہیں خبر
جن پہ مرنے کو جیا کرتا تھا
وہ بھی ملتے تھے کبھی مجھ سے نظر
کبھی ایسا بھی ہوا کرتا تھا

قیوم نظر

No comments:

Post a Comment