وہ کہاں مجھ پہ جفا کرتا تھا
جو مقدر تھا ملا کرتا تھا
آج شرماتا ہے سورج اس سے
وہ جو تاروں سے حیا کرتا تھا
سوچتا ہوں تو ہنسی آتی ہے
میں پڑا رہتا تھا افتادگی سے
جادۂ شوق چلا کرتا تھا
گردِ رہ بن کے جو یوں بیٹھا ہوں
صورتِ شعلہ اٹھا کرتا تھا
دل سے اک ہوک بھی اب اٹھتی نہیں
دل کہ، ہنگامہ بپا کرتا تھا
منزلوں تک ہے کڑی دھوپ کھڑی
میں بھی ساۓ میں چلا کرتا تھا
اب وہ مرنے کی اڑاتے ہیں خبر
جن پہ مرنے کو جیا کرتا تھا
وہ بھی ملتے تھے کبھی مجھ سے نظر
کبھی ایسا بھی ہوا کرتا تھا
قیوم نظر
No comments:
Post a Comment