کیوں بیٹھ گئے غبار سے ہم
کچھ کہہ نہ سکے بہار سے ہم
یہ زندگی عمر بھر کا رونا
گھبرا گئے انتظار سے ہم
وہ جبر کی لذتوں کا عالم
ہنستے ہیں کہ ہنس سکے زمانہ
خوش ہیں تو اس اعتبار سے ہم
وہ لمحہ ہے آج تک گریزاں
جب تک سے تھے ہمکنار سے ہم
اب آخر شب نظر ہے شاید
پھر جیسے ہیں ہوشیار سے ہم
قیوم نظر
No comments:
Post a Comment