پہلے دکھ درد کئی دل کے سنبھالے میں نے
پھر کیا خود کو تِرے غم کے حوالے میں نے
کیوں کُھلے تجھ پہ سفر میں تھی اذیت کیسی
کب دکھائے ہیں تجھے روح کے چھالے میں نے
تیری تصویر مِرے پاس تھی یعنی تُو تھا
دن تِرے ہجر کے اس خواب میں ٹالے میں نے
تیرے غم سے کیا دنیا کے غموں کا چارہ
یعنی اک خار سے سب خار نکالے میں نے
تُو نے ہر گام جو بخشے تھے اندھیرے مجھ کو
اُن اندھیروں میں تِرے خواب اُجالے میں نے
شہر والوں نے انہیں ابرِ کرم سمجھا ناز
اپنے آنسو جو ہواؤں میں اُچھالے میں نے
ناز بٹ
No comments:
Post a Comment