Monday, 4 April 2016

کیوں شناسائی کا گہرا زخم بھرتا ہی نہیں

کیوں شناسائی کا گہرا زخم بھرتا ہی نہیں 
دل تو کب کا مر گیا، ارمان مرتا ہی نہیں؟
آس کے سارے ستارے جھلملا کر بجھ گئے
اے شبِ فرقت! مِرا سورج ابھرتا ہی نہیں
خواہشوں کی سوگواری زیست کی بے چہرگی
اے غمِ دنیا! تِرا چہرہ سنورتا ہی نہیں
حبس ہے چاروں طرف چھایا فضائے ذہن میں
حجلۂ جاں سے کوئی جھونکا گزرتا ہی نہیں
عشق کی مے پی کے دل مجذوب ہوتا جائے ہے
نشہ سنتے ہیں کہ چڑھ کر یہ اترتا ہی نہیں

تسنیم عابدی

No comments:

Post a Comment