Monday, 4 April 2016

تم زیست گزاری کا ہنر بھول نہ جانا

تم زیست گزاری کا ہنر بھول نہ جانا
آ جائے سفر راس تو گھر بھول نہ جانا
اے چارہ گرو درد کے بڑھنے کی دوا دو
اے بے خبرو! میری خبر بھول نہ جانا
دی خانہ بدوشی نے مجھے کہہ کے تسلی
ہے زیست کا مقصد ہی سفر بھول نہ جانا

تسنیم عابدی

No comments:

Post a Comment