اپنے سوا کسی کی ہمیں جستجو نہ ہو
اب آرزو یہی ہے کوئی آرزو نہ ہو
دل ٹوٹا تو خدا مِرے نزدیک آ گیا
آوازِ آہ میں کہیں پوشیدہ 'ہُو' نہ ہو
بے عشق آدمی کی حقیقت یہی تو ہے
تُو معجزے سکوت کے ہم کو بھی کر عطا
ہم حالِ دل سنائیں،۔ مگر گفتگو نہ ہو
تسنیم عابدی
No comments:
Post a Comment