Monday, 4 April 2016

ان لعینوں کی علی ایسے مذمت کی جائے

ان لعینوں کی علی ایسے مذمت کی جائے
بوٹیاں نوچ کے کتوں کی ضیافت کی جائے
کاٹ کر ہاتھ ، بھریں آنکھ میں سیسہ ان کی
ان پہ جاری کوئی ان کی ہی شریعت کی جائے
ان کے قبضوں سے مساجد کو چھڑا کر لوگو
عشق والوں کے سپرد ان کی امانت کی جائے
ماؤں بہنوں کے کلیجے نہیں پھٹتے دیکھے؟
تم جو کہتے ہو کہ ہاں ان سے رعایت کی جائے؟
ڈر لیا ان سے جو ڈرنا تھا، بس اب اور نہیں
وقت آیا ہے کہ ختم ان کی امارت کی جائے
جو انہیں مار کے آئے اسے اپنا سمجھیں
جو انہیں ختم کرے اس کی حمایت کی جائے
دین کو ننگ بنا ڈالا ہے بد بختوں نے
ان کے افعال سے جی بھر کے کراہت کی جائے
ہم نے تقدیس انہیں دی، یہ مقدس ٹھہرے
دور اب اِن کی غلط فہمئ حُرمت کی جائے
جو یہ کہتا ہو کہ بِدعت ہے محبت کرنا
اس عقیدے کے ہر اک شخص پہ شدت کی جائے
کل بھی کہتا تھا، یہی آج بھی کہتا ہوں کہ ہاں
صرف انسان سے، انساں سے محبت کی جائے
نام ظالم کا نہ لے اور مذمت بھی کرے؟
اس منافق کی ہر اک سانس پہ لعنت کی جائے

علی زریون

No comments:

Post a Comment