عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ
نیزے پہ کیا تھا جو سفر یاد رہے گا
قرآن 🕮 سُناتا ہُوا سر یاد رہے گا
پردیس میں اک دن میں جو برباد ہُوا تھا
زہراؑ کا وہ اُجڑا ہوا گھر یاد رہے گا
ہر زخمِ تمنا کو بُھلا سکتی ہے لیکن
ماں کو علی اکبرؑ کا جگر یاد رہے گا
پیاسا رہا اُمت کی شفاعت کے لیے جو
وہ ساقئ کوثر کا پسر یاد رہے گا
پانی کے لیے ہاتھوں کا کٹنا بھی گوارا
سقائی کا دنیا کو ہُنر یاد رہے گا
اک سر تھا جو نیزے پہ ٹھہرتا ہی نہیں تھا
عباسؑ پہ کیسا تھا اثر یاد رہے گا
ماں بہنیں رسن بستہ کُھلے سر تھیں خدایا
بازار سے عابد کا گُزر یاد رہے گا
تسنیم عابدی
No comments:
Post a Comment