Wednesday, 11 August 2021

بازار ہے پتھر ہیں زینب کا کھلا سر ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ نوحۂ کربلا


بازار ہے پتھر ہیں زینب کا کُھلا سر ہے

ہر زخم پہ شُکرانہ زینبؑ کے لبوں پر ہے

اک گریہِ خونیں کی جاتی ہی نہیں لالی

سجادؑ کی آنکھوں کو دیکھا ہی نہیں خالی

یا خون ہے آنکھوں میں یا شام کا منظر ہے

وہ قلب تھے کیسے جو جاں لے گئے سرور کی

پتھر تو وہ ہے جس نے پتھر کی حیا رکھی

اے سنگِ حلب تجھ کو کیسے کہوں پتھر ہے

لٹکا درِ کُوفہ پر دیکھا ہے کوئی لاشہ

کیوں چوب سے محمل کی زینبؑ نے ہے سر مارا

اے وقت! لہو سے کیوں زینبؑ کی جبیں تر ہے

جو بڑھ کے ہر اک دُرا خود پُشت پہ کھاتی ہے

خود خوں میں نہاتی ہے، زینبؑ کو بچاتی ہے

ہاں یہ ہے وہی فِصّہ قنبر کی جو ہمسر ہے

یہ شورِ بُکا کیا ہے؟ ماتم کی صدا کیا ہے؟

توحید بچائے جو وہ کرب و بلا کیا ہے؟

یا ہے سرِ سرورؑ یا زینبؑ تیری چادر ہے

کیوں ہائے حسینا کا اک شور سا اٹھتا ہے

سر غازی کا نیزے سے کیوں خاک پہ گرتا ہے

غازی کی بہن شاید بلوے میں کُھلے سر ہے

لے شامِ غریباں سے پُر ہول بیاباں تک

بازار سے کُوفہ تک دربار سے زِنداں تک

بے رحم طمانچے ہیں اور شاہ کی دختر ہے

مقتل نے خدا جانے کیا چھین لیا اس کا

اک ہاتھ کلیجے پر رہتا ہے دھرا جس کا

لگتا ہے مجھے شاید یہ مادرِ اکبرؑ ہے

ٹکراتی ہے سر اپنا جائے تو کہاں جائے

معصوم سکینہؑ کو غش آئے کہ موت آئے

اس کیلئے زنداں میں بس خاک کا بستر ہے

اک کرب و بلا اول، اک کرب و بلا آخر

کہتے ہیں نویدؔ اس کو شبیرؑ جو ہے ظاہر

اور جو پسِ پردہ ہے وہ زینبِؑ مضطر ہے


احمد نوید

No comments:

Post a Comment