کوزہ گری کے شوق میں حد سے گزر گئے
آئے جو دن بہار کے سب پھول مر گئے
رستے پہ قافلے کو لگا کر گزر گئے
اپنے ہنر سے گیسوئے گیتی سنور گئے
کس کا خیال حسنِ تصور میں آ گیا
شاید وہ فصلِ گل کے پیمبر ہیں اس لیے
آمد سے ان کی پھول چمن میں نکھر گئے
وہ علم اور عقل کا پیکر ہیں اس لیے
اہلِ جنوں جو ان کی نظر سے اُتر گئے
تسنیم عابدی
No comments:
Post a Comment