Sunday, 10 April 2016

کوزہ گری کے شوق میں حد سے گزر گئے

کوزہ گری کے شوق میں حد سے گزر گئے
آئے جو دن بہار کے سب پھول مر گئے
رستے پہ قافلے کو لگا کر گزر گئے
اپنے ہنر سے گیسوئے گیتی سنور گئے
کس کا خیال حسنِ تصور میں آ گیا
دیکھو تفکرات کے چہرے سنور گئے
شاید وہ فصلِ گل کے پیمبر ہیں اس لیے
آمد سے ان کی پھول چمن میں نکھر گئے
وہ علم اور عقل کا پیکر ہیں اس لیے
اہلِ جنوں جو ان کی نظر سے اُتر گئے

تسنیم عابدی

No comments:

Post a Comment