Sunday, 10 April 2016

اے مرے جذبہ اظہار کی بے نام کسک

گناہ

اے مِرے جذبۂ اظہار کی بے نام کسک
صرف لذت تو نہیں حاصلِ رندی و گناہ
ذہن کی سطح پہ بہتے ہوئے آنسو بھی تو ہیں
گنگناتے ہوئے، گاتے ہوئے دل کے ہمراہ
میں نے ان آنکھوں کو چوما ہے، انہیں چاہا ہے
جن کی جنبش سے بدل جائیں کئی تقدیریں
نرم بالوں کے تصور کا سہارا لے کر
توڑ دی ہیں مِرے ہاتوں نے کئی زنجیریں
اے روایات میں پالی ہوئی روحِ تقدیس
تُو نے احساس کی عظمت کو تو سمجھا ہوتا
اے کہن زادۂ اوہام و رسوم و تقلید
میری بدنام شرافت کو تو سمجھا ہوتا
کتنے خونخوار برافروختہ چہروں کی قطار
مجھ کو ہر راہ پہ ہر صبح و مسا دیکھتی ہے
جن کو جینے کا سلیقہ ہے نہ مرنے کا شعور
ان کی آنکھوں کے دریچے سے قضا دیکھتی ہے
کاش ان آنکھوں سے اک دن کوئی یہ بھی پوچھے
کون سی حور ہے جنت میں جو دنیا میں نہیں
کون سی آگ ہے گہوارۂ دوزخ میں کہ جو
اپنے نزدیک کے اصحابِ دلآرا میں نہیں

مصطفیٰ زیدی

No comments:

Post a Comment