کچھ اور بھی ہیں سمجھدار باتیں کرتے ہیں
مگر جو مجھ پہ میرے یار باتیں کرتے ہیں
سِکھا تو دیتے ہیں تہذیبِ خامشی پہلے
پھر اس کے بعد جو سردار باتیں کرتے ہیں
وہ محو رہتی ہے باتوں میں رات بھر مجھ سے
بس اتنی بات پہ اغیار باتیں کرتے ہیں
میں جان بوجھ کے ہارا کہ تو بھی دیکھ سکے
جو تجھ پہ تیرے طرفدار باتیں کرتے ہیں
کہ ہم تو کہتے ہیں تجھ پر بس ایک آدھ غزل
جو لوگ بر سرِ بازار باتیں کرتے ہیں
جو میرے دل میں دھڑکتا ہے کیوں بھلاؤں اسے
عجیب لوگ ہیں بے کار باتیں کرتے ہیں
دبا دیا گیا تاریخ میں بہت کچھ پر
جو ملتے رہتے ہیں آثار باتیں کرتے ہیں
دعا کرو تمہیں شہرت کی بد دعا نہ لگے
ابھی تو بس یہی دو چار باتیں کرتے ہیں
عادل کہاوڑ
No comments:
Post a Comment