Tuesday, 4 October 2022

یہی تضاد تو حیران کرنے والا ہے

یہی تضاد تو حیران کرنے والا ہے

کہاں چراغ رکھا ہے کہاں اجالا ہے

میں زخم زخم ہوں اس واسطے نشے میں ہوں

مجھے بتاؤ، حرم ہے کہ یہ شوالہ ہے؟

رئیسِ شہر کا یہ عالی شان بنگلہ بھی

کسی غریب سے چھینا ہوا نوالہ ہے

امیر لوگوں سے محفوظ رکھ مِرے مالک

پھر اک غریب کی بیٹی نے خود نکالا ہے

انہیں کے سر پہ نہ گر جاؤں آسماں بن کر

ستم گروں نے مِرا نام تو اُچھالا ہے

ہیں انتظار میں تارے بھی چاند بھی وہ بھی

سنا ہے رات میں سورج نکالنے والا ہے

ہوا کی راہ میں جلتا چراغ ہے راہی

وہ کیا بُجھے گا جسے روشنی نے پالا ہے


حنیف راہی

No comments:

Post a Comment