Monday, 6 June 2022

سر پر ہے سائبان نہ تن پر لباس ہے

 سر پر ہے سائبان، نہ تن پر لباس ہے

اک سکۂ خلوص ہی لے دے کے پاس ہے

جائیں بھی اپنے زخم لیے کس کے پاس ہم

مرہم منافقت کا یاں سب کے پاس ہے

نفرت کی آگ پھیلنے پائے نہ دوستو

بارود ہے کہیں، تو کہیں پر کپاس ہے

دیدہ وری کے زعم میں سب محوِ خواب ہیں

شاید یہی سبب ہے کہ نرگس اداس ہے

آتا نہیں یقین کہ تم اس صدی میں ہو

اشرف تمہارے لہجے میں اب تک مٹھاس ہے


غلام رسول اشرف

No comments:

Post a Comment