اس کی نفرت کو عمر آپ محبت سمجھو
جو درِ دوست سے مل جائے غنیمت سمجھو
اُس کی باتوں سے لگا، بات نہیں بن سکتی
بات بن جائے اگر میری ضرورت سمجھو
منتظر دشت ہے، جنگل ہے، گلی کوچے ہیں
ہم میسّر ہیں اگر تم کو سہولت سمجھو
جوں غزل میری سُنی بزم سے ناصح بولے
یہ میاں عشق ہے اس کو نہ تجارت سمجھو
دل کے بدلے جو ملیں رنج و الم لے لینا
اتنی قیمت میں یہ دولت بھی تو نعمت سمجھو
شکوہ کرتے ہو غمِ ہجر میں رُل جانے کا
اک نظر ڈال لی اس نے تو یہ اُجرت سمجھو
بزم میں شاہوں کی کرتے ہو جو سچی باتیں
سر سلامت ہے عمؔر اس کو غنیمت سمجھو
عمر یعقوب
عمر یعقوب پاک نے آرمی میں دوران سروس 5/2/22 کو سنائپر کی گولی کا شکار ہو کر جامِ شہادت نوش کیا، آپ کا تعلق پلندری، سدھنوتی آزاد کشمیر سے تھا۔
No comments:
Post a Comment