بڑی ظالم گئے موسم کی اچھی یاد ہوتی ہے
انہی سوچوں میں ساری زندگی برباد ہوتی ہے
جنوں میں جب کبھی زخم ستم کچھ بھرنے لگتا ہے
تو پھر رسم ستم کوئی نئی ایجاد ہوتی ہے
فزوں ہوتا ہے فرقت میں وہ جس کو عشق کہتے ہیں
کہ بڑھتی ہے وہ روز و شب جو کوئی یاد ہوتی ہے
رہائی ہو یا کوئی قید کی صورت، برابر ہیں
محبت میں بھلا کب زندگی آزاد ہوتی ہے
نکل گھر سے ذرا اور سن وہ سچ جو لوگ کہتے ہیں
وہ سب جھوٹی ہے جو اخبار میں روداد ہوتی ہے
بس اب جانے دے اپنا یہ خیال خام جانے دے
خرابے میں کوئی بستی کہاں آباد ہوتی ہے
نورین طلعت عروبہ
No comments:
Post a Comment