Monday, 6 June 2022

بڑی ظالم گئے موسم کی اچھی یاد ہوتی ہے

 بڑی ظالم گئے موسم کی اچھی یاد ہوتی ہے

انہی سوچوں میں ساری زندگی برباد ہوتی ہے

جنوں میں جب کبھی زخم ستم کچھ بھرنے لگتا ہے

تو پھر رسم ستم کوئی نئی ایجاد ہوتی ہے

فزوں ہوتا ہے فرقت میں وہ جس کو عشق کہتے ہیں

کہ بڑھتی ہے وہ روز و شب جو کوئی یاد ہوتی ہے

رہائی ہو یا کوئی قید کی صورت، برابر ہیں

محبت میں بھلا کب زندگی آزاد ہوتی ہے

نکل گھر سے ذرا اور سن وہ سچ جو لوگ کہتے ہیں

وہ سب جھوٹی ہے جو اخبار میں روداد ہوتی ہے

بس اب جانے دے اپنا یہ خیال خام جانے دے

خرابے میں کوئی بستی کہاں آباد ہوتی ہے


نورین طلعت عروبہ

No comments:

Post a Comment