Monday, 6 June 2022

جب سر زلف تا کمر پہونچا

جب سرِ زلف تا کمر پہونچا

اس کمر کو بہت ضرر پہونچا

ہلکی پہونچی سے بھی لچکتا ہے

نازک اس کا ہے اس قدر پہونچا

اے نسیمِ سحر! تُو اس گل کو

بے کلی کی مِری خبر پہونچا

کہیو اے جاں! نظیر کو تیرے

رنجِ ہجر اب تو بیشتر پہونچا

یا بُلا لے اسے اِدھر اے جاں

یا تو ہی آپ کو ادھر پہونچا

ق

نامۂ یار جو سحر پہونچا

خوش رقم خوب وقت پر پہونچا

تھا لکھا یوں کہ اے نظیر اب تک

کس سبب تو ادھر نہیں پہونچا

میں نے اس کو کہا کہ اے محبوب

اس لیے میں نہیں ادھر پہونچا

یوں سنا تھا تم آپی آتے ہو

اس میں نامہ یہ پُر گہر پہونچا

مجھ کو پہونچا ہی جانو اپنے پاس

آج، کل، شام یا سحر پہونچا


نظیر اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment