Monday, 6 June 2022

کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ

 کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ

مجھ اعتدال سے عاری کو اعتدال میں رکھ

نچا رہا ہے مجھے انگلیوں پہ عشق تِرا

تمام عمر اسی رقص بے مثال میں رکھ

دکھی ہو دل تو اترتی ہے شاعری مجھ پر

تجھے غزل کی قسم ہے مجھے ملال میں رکھ

تُو چاہتا ہے اگر کارِ آفتاب کروں

مِرا عروج مِری ساعت زوال میں رکھ

تِرے بغیر گزاری ہے زندگی میں نے

تُو اس ستم کی تلافی بھی ماہ و سال میں رکھ

تُو دل ہے اور دھڑکنا تِری عبادت ہے

سو خود کو جسم سے باہر بھی تو دھمال میں رکھ

شکم سے ہو کے گزرتے ہیں قول و فعل مِرے

مجھ ایسے شخص کو نان و نمک کے جال میں رکھ

مِرے بدن کو بھلے اس سے آگ لگ جائے

چراغ حرف مگر میرے بال بال میں رکھ

میں اس عذاب کے نشے میں مبتلا ہوں کبیر

پرائی آگ اٹھا کر مِری سفال میں رکھ


کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment