Friday, 14 October 2022

جب خود ہی احتیاط کی سرحد سے دور تھا

 جب خود ہی احتیاط کی سرحد سے دور تھا

کیسے کروں گلہ کہ میں زخموں سے چور تھا

میں نے ہی راستے سے ہٹائے تھے سارے خار

میں نے یہ کب کہا ہے کہ میں بے قصور تھا

ممکن نہیں تھا دوستو! اپنا محاصرہ

درباریوں میں کوئی تو مخبر ضرور تھا

دریائے حادثات کی موجیں شدید تھیں

آواز میں نے دی تھی مگر وہ بھی دور تھا

کیوں کر امیر شہر کے تم ہم نوا ہوئے

اشرف تمہیں تو اچھے برے کا شعور تھا


غلام رسول اشرف 

No comments:

Post a Comment