ہم جو پیمان تک نہیں پہنچے
اپنے امکان تک نہیں پہنچے
کیسے پائیں گے وہ خدا ،سوچو
وہ جو انسان تک نہیں پہنچے
اپنے اندر سفر کیا ہم نے
پھر بھی نروان تک نہیں پہنچے
کیسے پہنچیں گے قیس تک یارو
ہم جو ملتان تک نہیں پہنچے
جس سے لعلِ وفا نکلتے تھے
ہم تو اس کان تک نہیں پہنچے
قافلے عشق کے چلے، لیکن
دشتِ حیران تک نہیں پہنچے
وہ جو شہرِ سبا سے نکلے تھے
تختِ سلمان تک نہیں پہنچے
ڈھونڈ پائیں گے کیسے سسی کو
وہ جو مکران تک نہیں پہنچے
اس لیے پارہ پارہ پھرتے ہیں
لوگ قرآن تک نہیں پہنچے
آیۂ ہجر پر رکے اشکر
وصل کی تان تک نہیں پہنچے
اشکر فاروقی
No comments:
Post a Comment