Friday, 14 October 2022

زخم میرے کریدنے والو

 زخم میرے کریدنے والو

خون رِستا ہے درد ہوتا ہے

آہ بھرنے سے داغ جلتے ہیں

ضبط کرنے سے سانس رکتی ہے

لفظ نازک سا اک سہارا ہیں

ہجر کو نظم میں پرونے کا

آنسوؤں کو زبان دینے کا

یہ جو مصرعوں پہ داد دیتے ہو

خونِ دل میں ڈبو کے لکھے ہیں

ان سے لپٹے ہیں رتجگوں کے بھنور

ان میں محرومیاں پِروئی ہیں

تم کو یہ سب دکھائی دیتا ہے

سسکیاں بھی سنائی دیتی ہیں

ان محبت میں چُور نظموں سے 

نارسائی کی باس آتی ہے

داد دیتے ہو، سر کو دُھنتے ہو

اور پھر پوچھتے بھی ہو مجھ سے

کیا کہانی تھی کیا فسانہ تھا

نام کیا تھا، کہاں ملے تھے اسے

کس طرح، کب جدا ہوئے اس سے

یاد کرتے ہیں کیا اسے اب بھی

بھول جانے کا کیا طریقہ ہے

زخم میرے کُریدنے والو

خون رِستا ہے، درد ہوتا ہے


عاطف سعید

No comments:

Post a Comment