آرزو تم ہو مدعا تم ہو
کیا زباں سے کہوں کہ کیا تم ہو
کیا ضرورت ہے آئینے کی مجھے
میری ہستی کا آئینہ تم ہو
دل ابھی تک نہیں سمجھ پایا
اجنبی ہو کہ آشنا تم ہو
صحنِ گلشن میں جا کے راز کُھلا
چہرۂ گُل میں رونما تم ہو
چاند تاروں شفق میں پھولوں میں
رنگ ہو نور ہو صبا تم ہو
مجھ کو طوفان غم کا خوف نہیں
میری کشتی کے ناخدا تم ہو
تم سے قائم ہے زندگی نغمی
دلکی دھڑکن کی ہر صدا تم ہو
ابرار نغمی
No comments:
Post a Comment