Friday, 14 October 2022

آرزو تم ہو مدعا تم ہو

 آرزو تم ہو مدعا تم ہو

کیا زباں سے کہوں کہ کیا تم ہو

کیا ضرورت ہے آئینے کی مجھے

میری ہستی کا آئینہ تم ہو

دل ابھی تک نہیں سمجھ پایا

اجنبی ہو کہ آشنا تم ہو

صحنِ گلشن میں جا کے راز کُھلا

چہرۂ گُل میں رونما تم ہو

چاند تاروں شفق میں پھولوں میں

رنگ ہو نور ہو صبا تم ہو

مجھ کو طوفان غم کا خوف نہیں

میری کشتی کے ناخدا تم ہو

تم سے قائم ہے زندگی نغمی

دلکی دھڑکن کی ہر صدا تم ہو


ابرار نغمی

No comments:

Post a Comment