Friday, 14 October 2022

دل کو شہرت کا طلبگار نہ ہونے دیجے

 دل کو شہرت کا طلبگار نہ ہونے دیجے

خود کو رسوا سر بازار نہ ہونے دیجے

فاقہ کر لیجیے اس شہر جفا میں، لیکن

خم انا کی کبھی دستار نہ ہونے دیجے

جس کی تعمیر میں اسلاف کا خوں شامل ہو

اس حویلی کو تو مسمار نہ ہونے دیجے

گفتگو میں بھی رہے حسنِ تکلم کا خیال

اور لہجے کو بھی تلوار نہ ہونے دیجے

وقت سے قیمتی دنیا میں کوئی چیز نہیں

کوئی پل زیست کا بیکار نہ ہونے دیجے

خامشی نصر! ہے دراصل ذہانت کی دلیل

اپنے حالات کو اخبار نہ ہونے دیجے


نصراللہ نصر

No comments:

Post a Comment