Thursday, 13 October 2022

جب ترے دل پہ کوئی تخت نشیں ہوتا ہے

 جب تِرے دل پہ کوئی تخت نشیں ہوتا ہے

زخم ہوتے ہیں کہیں درد کہیں ہوتا ہے

ہم نے آتے ہوئے دروازے کھلے چھوڑ دئیے

دیکھیے اب کے وہاں کون مکیں ہوتا ہے

میں نے اس طرح نکالا ہے کہیں سے خود کو

میرے ہونے سے بھی احساس نہیں ہوتا ہے

روز دل سے بھلے سو لوگ اتر جاتے ہیں

پھر بھی ہم میں تِرا معیار وہیں ہوتا ہے

سانس چلتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی مجھے

بس تِرے پاؤں کی ٹھوکر سے یقیں ہوتا ہے


تیمور بلال

No comments:

Post a Comment