Sunday, 6 March 2022

کر کے بہت سے رندوں کو تنہا چلی گئی

 کر کے بہت سے رندوں کو تنہا چلی گئی

مے خانہ بند ہو گیا، صہبا چلی گئی

جس میں تھے پھول تتلیاں مہتاب و کہکشاں

حیراں ہوں وہ کہاں میری دنیا چلی گئی

جس میں نشاں عہدِ کُہن تھے چھپے ہوئے

شاہد وہ ریت اب پسِ دریا چلی گئی

بنتی ہے تب ہی بات کہ باہم ہو میل جول

قیس آ گیا کبھی، کبھی لیلیٰ چلی گئی

اب بھی جہانِ فن پہ محبت ہے حکمراں

کب روٹھ کر یہ جانِ تمنا چلی گئی

اس کا اُڑایا شہر کے لڑکوں نے جب مذاق

چرخہ اُٹھا کے چاند پہ بُڑھیا چلی گئی

وہ روشنی تھی یا کوئی خوشبوئے دلفریب

دے کر ہمیں جو پیار کا تحفہ چلی گئی

زاہد چھپی تھی دل کی وہ پاتال میں کہیں

ہُوئے وفا کو تم نے یہ سمجھا چلی گئی


زاہد بخاری

No comments:

Post a Comment