Tuesday, 8 March 2022

دیکھتے دیکھتے دیکھتے رہ گئے

 دیکھتے دیکھتے، دیکھتے رہ گئے

مسکراتے ہوئے ہر ستم سہہ گئے

بات ہی بات میں بات نکلی تھی یوں

جو نہ کہنا تھا ہم وہ سبھی کہہ گئے

روکتے روکتے روک پائے نہ ہم

بہتے بہتے یونہی اشک پھر بہہ گئے

کیا کریں ، کب کریں، کیوں کریں دوستو

یوں کریں ہم کہ یوں، سوچتے رہ گئے

ہر پرت پر پرت ہر پرت میں پرت

ایک تہ سے نکل دوسری تہ گئے

وہ تِرے شہر کے پر فتن لوگ تھے

شہ کو شہ پر جو دیتے ہوئے شہ گئے

جو غزالی تِرے ہمنوا تھے کبھی

تم انہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے رہ گئے


امجد کلیم غزالی

No comments:

Post a Comment