Tuesday, 8 March 2022

میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤں

 میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤں 

تو حرف حرف پڑھے وہ کتاب ہو جاؤں 

مِرے سوا کبھی تجھ کو لبھا سکے نہ کوئی 

میں تیرے واسطے وہ انتخاب ہو جاؤں 

تُو آسمان کی وسعت میں لے کے جائے مجھے 

میں تجھ پہ فخر کروں، آفتاب ہو جاؤں 

تُو بوند بوند سے لذت کشید کرتا رہے 

مگر نہ پیاس بجھے وہ شراب ہو جاؤں 

وہ اپنی نرم سی پوروں سے گر چھوئے مجھ کو 

مہک مہک اٹھوں مثل گلاب ہو جاؤں 

تمہاری یاد میں چھوڑوں نہ مے کشی طاہر

مجھے ہے جتنا بھی ہونا خراب ہو جاؤں 


طاہر حنفی

No comments:

Post a Comment