نفرت کی باس عام نہ کرنا جناب جی
خوشبو کی طرح ہر سُو بکھرنا جناب جی
خود کو بچا کے رکھنا ہے بادِ سمُوم سے
تازہ گُلاب بن کے نکھرنا جناب جی
شکوہ کناں ہے باغ میں پہلے ہی عندلیب
اب اور کوئی گُل نہ کترنا جناب جی
باہر قدم قدم پہ ہیں پہرے لگے ہوئے
ہرگز گلی میں پاؤں نہ دھرنا جناب جی
خلقِ خدا دعاؤں میں مصروف ہو گئی
بہنے لگا ہر آنکھ سے جھرنا جناب جی
زاہد جو چاہتے ہو کہ راضی ہو رب کی ذات
پانی کسی فقیر کا بھرنا جناب جی
زاہد بخاری
No comments:
Post a Comment