Tuesday, 8 March 2022

نفرت کی باس عام نہ کرنا جناب جی

 نفرت کی باس عام نہ کرنا جناب جی

خوشبو کی طرح ہر سُو بکھرنا جناب جی

خود کو بچا کے رکھنا ہے بادِ سمُوم سے

تازہ گُلاب بن کے نکھرنا جناب جی

شکوہ کناں ہے باغ میں پہلے ہی عندلیب

اب اور کوئی گُل نہ کترنا جناب جی

باہر قدم قدم پہ ہیں پہرے لگے ہوئے

ہرگز گلی میں پاؤں نہ دھرنا جناب جی

خلقِ خدا دعاؤں میں مصروف ہو گئی

بہنے لگا ہر آنکھ سے جھرنا جناب جی

زاہد جو چاہتے ہو کہ راضی ہو رب کی ذات

پانی کسی فقیر کا بھرنا جناب جی


زاہد بخاری 

No comments:

Post a Comment