Tuesday, 8 March 2022

اک لہر اٹھی غم کی دل میں امید کا دامن چھوٹ گیا

 اک لہر اٹھی غم کی دل میں امید کا دامن چھوٹ گیا

رو رو کے ارماں کہتے ہیں دل ٹوٹ گیا دل ٹوٹ گیا

گر ناچ رہے ہیں مور تو کیا کرتا ہے پپیہا شور تو کیا

میں جنم جلی فریاد کروں مِرا پریتم مجھ سے روٹھ گیا

بربادئ دل کا افسانہ ہم کس سے کہیں اور کیسے کہیں

جب سننے والا کوئی نہیں جب دل ہی اپنا ٹوٹ گیا

زخموں پہ مرے جو ہنستے ہیں دنیا والے غم اس کا نہیں

اے کاش برا ہو اس دل کا جو بھیدی بن کر لوٹ گیا


کنول سیالکوٹی

No comments:

Post a Comment