Thursday, 10 March 2022

چشم قاتل کی جو مد ہے حد ہے

 چشمِ قاتل کی جو مد ہے، حد ہے

ایک عالم پہ ہی زد ہے، حد ہے

تیری آنکھوں سے جو پی لی ساقی

ہوش باقی نہ خرد ہے، حد ہے

دل کہے چاند اتاروں نیچے

ایک نادان سی کد ہے، حد ہے

تیری ہر بات ہے مقبول یہاں

میری ہر بات ہی رد ہے، حد ہے

کاٹ دیتے ہیں زبانیں جس میں

کیا وہی تیرا بلد ہے، حد ہے

دیکھ ساگر میں چڑھاؤ جاناں

تیرے عارض کی یہ مد ہے، حد ہے

جبر کاٹا ہے مسلسل ہم نے

کار یہ تا بہ ابد ہے، حد ہے

میں تجھے بھول کے زندہ بھی رہوں

یہ تمنا بھی اشد ہے، حد ہے

شور برپا ہے غزالی! کیسا؟

ریگ ہی ریگ پہ گد ہے، حد ہے


امجد کلیم غزالی

No comments:

Post a Comment