Thursday, 10 March 2022

وہ نظر مجھ سے خفا ہو جیسے

 وہ نظر مجھ سے خفا ہو جیسے

جسم سے روح جدا ہو جیسے

یوں اٹھا میرے نشیمن سے دھواں

درد پہلو سے اٹھا ہو جیسے

زندگی اپنے ہی زخموں کے سبب

کسی مفلس کی قبا ہو جیسے

انتظار اس کا مِرا تار نفس

یک بہ یک ٹوٹ گیا ہو جیسے

سانحے کرتے ہیں محور کو تلاش

مرکز کرب و بلا ہو جیسے


محور نوری

No comments:

Post a Comment