Thursday, 10 March 2022

ہاتھ پھر بڑھ رہا ہے سوئے جام

 ہاتھ پھر بڑھ رہا ہے سُوئے جام

زندگی کی اداسیوں کو سلام

کون جانے یہ کس کی زلفوں میں

ہو گئے ہیں اسیر صبح و شام

میں سمجھتا ہوں پھر بہار آئی

کوئی لیتا ہے جب خزاں کا نام

کوئی اہلِ جنوں کو سمجھا دے

آگہی تو نہیں ہے کوئی دام

ساتھ دو گام تو چلو، ورنہ

بھول جائے گی گردشِ ایام


جاوید کمال رامپوری

No comments:

Post a Comment