سبز موسم ہے تو کیوں زرد ہوئے جاتے ہو
پیار پایا ہے تو بے درد ہوئے جاتے ہو
تم ہو قربت سے مِری جان پریشاں جو یوں
بیٹھ کے پہلو میں کیوں سرد ہوئے جاتے ہو
دل مِرا یار! تِری ایک نظر کو ترسے
اور تم سب کے ہی ہمدرد ہوئے جاتے ہو
تہمتیں ہیں یہ جو ماتھے پہ لگیں اب ہمدم
عشق کے فرقہ کے تم فرد ہوئے جاتے ہو
میں سمجھتا رہا منزل مِرے یارا، لیکن
تم تو رستے کی وہی گرد ہوئے جاتے ہو
ارفع کنول
No comments:
Post a Comment