اوڑھی ردائے درد بھی حالات کی طرح
تاریکیوں میں ڈوب گئے رات کی طرح
شیوہ نہیں کہ شعلۂ غم سے کریں گریز
ہر زخم ہے قبول نئی بات کی طرح
نیند آ رہی ہے کرب کی آغوش میں مجھے
میں اپنے آپ سے کبھی باہر نہ آ سکا
الجھا رہا ہوں خود میں خیالات کی طرح
حیران ہوں کہ خود کو بھی پہچانتا نہیں
جذبے بدل رہے ہیں رسومات کی طرح
کیا گل کھلائے میری اداسی کی لہر نے
ذہنوں کے ریگزار میں برسات کی طرح
کیا بستیوں کا ذکر کہ احساس کی تپش
جنگل جلا گئی، مِرے جذبات کی طرح
کیا خوب آشنا ہیں کہ پہچانتے نہیں
جب بھی ملے تو پہلی ملاقات کی طرح
دنیا کا درد اپنے دکھوں میں سمیٹ کر
محسوس کر رہا ہوں غمِ ذات کی طرح
احباب کس خلوص سے زلفیؔ مِری غزل
رکھتے ہیں دل کے طاق میں سوغات کی طرح
سیف زلفی
No comments:
Post a Comment