Thursday, 3 December 2015

اب کیا گلہ کریں کہ مقدر میں کچھ نہ تھا

اب کیا گِلہ کریں کہ مقدر میں کچھ نہ تھا
ہم غوطہ زن ہوئے تو سمندر میں کچھ نہ تھا
دیوانہ کر گئی تِری تصویر کی کشش
چوما جو پاس جا کے تو پیکر میں کچھ نہ تھا
اپنے لہو کی آگ ہمیں چاٹتی رہی
اپنے بدن کا زہر تھا ساغر میں کچھ نہ تھا
دیکھا تو سب ہی لعل و جواہر لگے مجھے 
پرکھا جو دوستوں کو تو اکثر میں کچھ نہ تھا 
سب رنگ سیلِ تیرگئ شب سے ڈھل گئے
سب روشنی کے عکس تھے منظر میں کچھ نہ تھا

سیف زلفی

No comments:

Post a Comment