ہوش میں رہنے کی تاکید کے معنی، ظالم
ہوش الفت میں کبھی رہتے ہیں باقی، ظالم
عزم پختہ ہو تو ہو جائیں گے دو دل اک جان
شرط ہے صرف کہ ہو سوچ نہ منفی، ظالم
یاد آئے مِری تو ہوش پہ رکھنا قابو
قدر بے حد ہے تِری تشنہ لبی کی دل میں
حکم ہوتے ہی میں بن جاؤں گا ساقی، ظالم
کیا گزرتی ہے تِرے دل پہ، یہ تو ہی جانے
مجھ سے برداشت نہیں ہوتی جدائی، ظالم
کاش تُو چاہے مجھے چاہنے والوں کی طرح
میری چاہت پہ نہ جا، وہ ہے انوکھی، ظالم
پیار بھی کاش تِرا ایسا نرالا نکلے
جیسی مجھ سے تِری نفرت تھی نرالی، ظالم
یہ دکھائے گی ہمیں بحر کے سارے منظر
منتظر کشتئ الفت ہے ہماری، ظالم
ظلم جاویدؔ پہ جو تُو نے کیے، بھول گیا
جانے کیوں تُو نے مچائی یہ تباہی، ظالم
جاوید جمیل
No comments:
Post a Comment