Thursday, 3 December 2015

طوفاں ہر ایک دل میں ہے حسرت کا شہر میں

طوفاں ہر ایک دل میں ہے حسرت کا شہر میں
اترا ہے ایک حسن قیامت کا شہر میں
وعدوں کے انہدام کی تاریخ ہے طویل
تعمیر کیا محل ہو محبت کا شہر میں
ناراض ہو کے ہاتھ جھٹک کر چلے گئے
فالودہ خوب نکلا ہے عزت کا شہر میں
اندیشۂ فساد سے ہر گھر میں خوف ہے
اک جِن پھِر رہا ہے شرارت کا شہر میں
ہر لب پہ یہ دعا ہے ہر اک دل میں یہ امید
آئے کوئی فرشتہ محبت کا شہر میں
دولت کا گہرا ربط سیاست سے ہو گیا
فقدان ہر طرف ہوا برکت کا شہر میں
کر دوں اسے بھی تیرے تصور کے نام میں
مل جائے ایک لمحہ ہی فرصت کا شہر میں
جاویدؔ تُو نے کیسے کیا فتح اس کا دل
چرچا ہے خوب تیری ذہانت کا شہر میں

جاوید جمیل

No comments:

Post a Comment