Thursday, 3 December 2015

دشت فرقت میں تری یاد کی آغوش غضب

دشت فرقت میں تِری یاد کی آغوش غضب
لب تھے گویا تِرے اور میں ہمہ تن گوش غضب
سرسراہٹ تھی محبت کی فقط اور ہم تھے
جس طرف دیکھیے، ماحول تھا خاموش غضب
یاد کے ہونٹوں پہ رقصاں تھے سریلے نغمے
جسم بے ہوش تھا اور جان تھی مدہوش غضب
ایسا لگتا تھا، ہر اک خار ہوا ہے معدوم
ایسا لگتا تھا چمن سارا تھا گل پوش غضب
منفرد ذائقہ ہر ایک جھلک کا نکلا
میں نے ہر لقمۂ دیدار کیا نوش غضب
جلوہ افروز ہوا حسن بھری محفل میں
ہوش میں لگتا نہیں تھا کوئی ذی ہوش غضب
ایسا لگتا تھا، مٹا ڈالے گا مجھ کو جاویدؔ
یادوں کا ایک تلاطم سا تھا پرجوش غضب

جاوید جمیل

No comments:

Post a Comment