Thursday, 3 December 2015

کہتا ہوں عقلمند مگر سر پھرا ہوں میں

کہتا ہوں عقلمند مگر سر پھرا ہوں میں
میں عمر بھر یہی نہیں سمجھا کہ کیا ہوں میں
دعویٰ میں کیسے کر دوں کوئی پارسا ہوں میں
سچ  تو یہ ہے، برا نہیں سب سے برا ہوں میں
نکلا تھا برسوں پہلے کسی کی تلاش میں
چسپاں ہیں اشتہار یہ اب گمشدہ ہوں میں
حاکم یہ کہتا پھِرتا ہے سنتا ہے وہ مِری
"میں لاکھ چیختا رہوں  "بے آسرا  ہوں میں
منصف نے جانے کس کی سنی دل کی چھوڑ کر
دل اس کا چیختا رہا کہ بے خطا ہوں میں
احباب بھی، عزیز بھی، شامل ہیں بھیڑ میں
حملہ ہر اک طرف سے ہے، تنہا کھڑا ہوں میں
انسان کا یہ حال کہ ہے شرک پر مُصر
"کہتا ہے بار بار خدا کہ "خدا ہوں میں"
رہتی ہے دشمنوں کی ہدایت کی آرزو
جاویدؔ انتقام سے ناآشنا ہوں میں

جاوید جمیل

No comments:

Post a Comment