کیا ہنستا ہنساتا شہر یارو
حاسد کا نصیب ہو گیا ہے
ہر دوست ہے میرے خوں کا پیاسا
ہر دوست رقیب ہو گیا ہے
ہر آنکھ کی ظلمتوں سے یاری
ہر ذہن مہیب ہو گیا ہے
کاغذ پہ اُگل رہا ہے نفرت
کم ظرف ادیب ہو گیا ہے
پھیلا تھا مسیح وقت بن کر
سمٹا تو صلیب ہو گیا ہے
سیف زلفی
No comments:
Post a Comment