Monday, 11 April 2022

کیا ہنستا ہنساتا شہر یارو حاسد کا نصیب ہو گیا ہے

 کیا ہنستا ہنساتا شہر یارو 

حاسد کا نصیب ہو گیا ہے 

ہر دوست ہے میرے خوں کا پیاسا 

ہر دوست رقیب ہو گیا ہے 

ہر آنکھ کی ظلمتوں سے یاری 

ہر ذہن مہیب ہو گیا ہے 

کاغذ پہ اُگل رہا ہے نفرت 

کم ظرف ادیب ہو گیا ہے

پھیلا تھا مسیح وقت بن کر 

سمٹا تو صلیب ہو گیا ہے 


سیف زلفی

No comments:

Post a Comment