Monday, 11 April 2022

یوں اکیلا ہوں اپنے یاروں میں

 یوں اکیلا ہوں اپنے یاروں میں

چاند تنہا ہو جیسے تاروں میں

عشق کا امتحان لینا ہے

کودنا ہے مجھے شراروں میں

شہر میں بس گئے ہیں اہلِ ہوس

چل کے رہتے ہیں آؤ غاروں میں

گل سے ایسی وفا نبھائی ہے

دامن الجھا لیا ہے خاروں میں

جاں بچا پاتے کس طرح سے معان

سارے اپنے تھے پہریداروں میں


عامر معان

No comments:

Post a Comment