یوں اکیلا ہوں اپنے یاروں میں
چاند تنہا ہو جیسے تاروں میں
عشق کا امتحان لینا ہے
کودنا ہے مجھے شراروں میں
شہر میں بس گئے ہیں اہلِ ہوس
چل کے رہتے ہیں آؤ غاروں میں
گل سے ایسی وفا نبھائی ہے
دامن الجھا لیا ہے خاروں میں
جاں بچا پاتے کس طرح سے معان
سارے اپنے تھے پہریداروں میں
عامر معان
No comments:
Post a Comment