اے عشق تیرے نور کو محشر میں پھینک دوں
موسٰی کو کوہِ طور کے منظر میں پھینک دوں
عرشِ بریں کی آنکھ سے تصویر کھینچ کر
شعروں کا قفل توڑ کے شاعر میں پھینک دوں
کافر تو نہ کہو گے اگر وحشتوں کے بعد
کعبے کے سارے رنگوں کو مندر میں پھینک دوں
عکسِ گماں میں وادیِ جنت کا ہے سرور
دوزخ کی وحشی آگ کو گوہر میں پھینک دوں
ابرار مظفر
No comments:
Post a Comment