وارفتگئ شوق فسوں کار نہ ہو جائے
جلوؤں کو سنبھلنا کہیں دشوار نہ ہو جائے
رہبر جو ہمیں ٹھوکریں کھانے نہیں دیتا
ڈرتا ہے کہیں راستہ ہموار نہ ہو جائے
مۓ خانہ بھی اک کارگہِ شیشہ گری ہے
شبنم کو نکالو نہ طرب زارِ چمن سے
کلیوں کا چٹکنا کہیں دشوار نہ ہو جائے
اوسان نا کھو دے کہیں وحشت تِرے آگے
دیوانہ تجھے دیکھ کے ہُشیارنہ ہو جائے
قابلؔ کے شب و روز بدلنے نہیں پاتے
بد نام تِری شوخئ رفتار نہ ہو جائے
قابل اجمیری
No comments:
Post a Comment