ابھی تو فیصلہ باقی ہے، شام ہونے دے
سحر کی اوٹ میں مہتابِ جاں کو رونے دے
تری نظر کے اشارے نہ روشنی بن جائیں
تو پھر یہ رات کہاں جگنوؤں کو سونے دے
بہت ہُوا تو ہواؤں کے ساتھ رو لوں گا
ابھی تو ضد ہے مجھے کشتیاں ڈبونے دے
ہمارے بعد بھی کام آئے گی جنوں کی آگ
یہ آگ زندہ ہے اس کو نہ سرد ہونے دے
صدی سے مانگے گی اگلی صدی حسابِ گُنہ
مرے سرشک کو لمحوں کے داغ دھونے دے
یہ غم مرا ہے تو پھر غیر سے علاقہ کیا
مجھے ہی اپنی تمنا کا بار ڈھونے دے
ببول سبز ہے باندھے حصارِ ناز اجمل
مجھے بھی اپنی زمیں میں چنار بونے دے
کبیر اجمل
No comments:
Post a Comment