Monday, 17 May 2021

تو میرا ہے تیرے من میں چھپے ہوئے سب دکھ میرے ہیں

 تُو میرا ہے

تیرے من میں چھُپے ہوئے سب دُکھ میرے ہیں

تیری آنکھ کے آنسُو میرے

تیرے لبوں پہ ناچنے والی یہ معصوم ہنسی بھی میری

تُو میرا ہے

ہر وہ جھونکا

جس کے لمس کو

اپنے جسم پہ تُو نے بھی محسوس کیا ہے

پہلے میرے ہاتھوں کو

چھُو کر گزرا تھا

تیرے گھر کے دروازے پر

دستک دینے والا

ہر وہ لمحہ جس میں

تجھ کو اپنی تنہائی کا

شِدت سے احساس ہوا تھا

پہلے میرے گھر آیا تھا

تُو میرا ہے

تیرا ماضی بھی میرا تھا

آنے والی ہر ساعت بھی میری ہو گی

تیرے تپتے عارض کی دوپہر ہے میری

شام کی طرح گہرے گہرے یہ پلکوں کے سائے ہیں میرے

تیرے سیاہ بالوں کی شب سے دُھوپ کی صُورت

وہ صُبحیں جو کل جاگیں گی

میری ہوں گی

تُو میرا ہے

لیکن تیرے سپنوں میں بھی آتے ہوئے یہ ڈر لگتا ہے

مجھ سے کہیں تُو پُوچھ نہ بیٹھے

کیوں آئے ہو؟

میرا تم سے کیا ناطہ ہے؟


آنس معین بلے

No comments:

Post a Comment