Thursday, 10 March 2022

ہاں تری گفتگو اذیت ہے

 ہاں، تِری گفتگو اذیت ہے

صاف کہتا ہوں؛ تُو اذیت ہے

تُو مجھے مل نہ پائے گا کبھی بھی

اب تِری جستجو اذیت ہے

عشق کا راستہ چُنا ہے، مگر

بخدا! کو بکو اذیت ہے

تم بھی رہتے ہو اب پریشاں سے

میرے بھی روبرو اذیت ہے

جس نگر کی ہے شاہزادی تُو

اس نگر چار سُو اذیت ہے


اسامہ زاہروی

No comments:

Post a Comment