جو شخص تِری راہ گزر تک نہیں پہنچا
ہاتھ اس کا مقاصد کے گہر تک نہیں پہنچا
دراصل محبت کے نگر تک نہیں پہنچا
وہ جس کا تصور تِرے در تک نہیں پہنچا
یزداں کو سمجھنا تو بڑی بات ہے صاحب
ادراک ابھی اپنا بشر تک نہیں پہنچا
برسات کے میلے سے خریدے تھے کھلونے
مٹی کا جو پُتلا تھا وہ گھر تک نہیں پہنچا
وہ دور، بہت دور گئے قافلے والے
زاہد تو ابھی گردِ سفر تک نہیں پہنچا
زاہد بخاری
No comments:
Post a Comment